عباس علمدار کی والدہ “ فاطمہ ام البنین” کے قبیلے سے تعلق رکھتاتھا۔ درحقیقت عباس (ع) اور ان کے سگے بھائیوں کا دور کا رشتہ دار سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ اس نے حضرت عباس (ع) اور ان کے بھائیوں کے لئے یزیدی گورنر ابن زیاد لعین سے امان نامہ حاصل کیا تا کہ بزعم خود انہیں امام حسین علیہ السلام سے الگ کردے اور اپنے رشتہ داروں کو بھی نجات دلائے!
شمر (ع) نویں محرم کے آخری پھر خیام حسین (ع) کے قریب آیا اور آواز دی: "یرے بھانجے کہاں ہیں؟" عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور کہنے لگے:
"کیا چاہتے ہو؟"
شمر نے کہا:
"میں تمہارے لئے امان نامہ لایا ہوں۔ تم امان میں ہو!"
چار بھائیوں نے جواب دیا:
"لعنت ہو تم پر اور تمہارے امان نامے پر۔ کیا تم ہمیں امان دینا چاہتے ہو جبکہ فرزند رسول (ص) کے لئے امان نہیں ہے؟!" عباس (ع) نے شیر غراں کی مانند گرجدار آواز میں ساتھ جواب دیا:
"تیرے ہاتھ کٹ جائیں کہ تم کیا برا امان نامہ لائے ہو!، اے دشمن خدا!، کیا تم ہم سے چاہتے ہو کہ ہم اپنے بھائی، سید و آقا حسین فرزند زہرا (س) کو چھوڑ دیں؟ اور لعینوں اور لعین زادوں کی فرمانبرداری قبول کریں؟"۔ شمر نہایت غصے میں اپنی لشکرگاہ کی طرف لوٹا۔
عصر عاشور، وہ وقت بھی آیا جب تمام اصحاب و انصار اور اہل بیت (ع) شہید ہوئے تھے اور صرف حسین(ع) اور عباس – علیہماالسلام - باقی تھے۔ عباس سے اپنے بھائی کی تنہائی نہ دیکھی گئی اور اپنے امام اور بھائی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
عرض کیا: “ جان برادر! اجازت دیں گے کہ میں بھی جہاد کے لئے چلا جاؤں؟"
امام (ع) نے شدت سے گریہ کیا اور فرمایا: "بھائی جان! تم میرے علمدار ہو اور جاؤگے تو قافلہ منتشر ہوجائے گا"۔
عباس نے عرض کیا: "میرا سینہ تنگ ہوچکا ہے اور مزید جینے سے بیزار ہوچکا ہوں اور ان منافقین سے خون کا انتقام لینا چاہتا ہوں"۔
اجازت ملی تو علی و حسن و حسین علیہم السلام کی آغوش میں پرورش پانے والے عباس لشکر یزید کے مقابل کھڑے ہوئے انہیں نصیحت کی اور انہیں ان کے عمل کی انجام سے خبردار کیا مگر وہ سنگدل، سنگدل ہی رہے اور ان کے دلوں پر علمدار کربلا کے کلام کا کوئی اثر نہیں ہؤا۔
عباس (ع) ایک بار پھر خیموں کی جانب لوٹ آئے اور بھائی کو اپنے اقدام کی خبر دی۔ اس حال میں عباس (ع) کو ایک صدا آئی، پیاسے بچوں کے رونے بلکنے کی صدا سنائی دے رہی تھی۔ بچے "العطش، العطش" کی صدا بلند کررہے تھے۔
عباس (ع) اب ساقی بن کر میدان کی طرف جانا چاہ رہے تھے چنانچہ نیزہ اور مشک اٹھا کر رجز پڑھتے پڑھتے فرات کی جانب روانہ ہوئے:
لا ارہب الموت اذا الموت زقا
حتی اواری فی المصالیت لقا
نفسی لنفس المصطفی الطہر وقا
انی انا العباس اغدو بالسقا
ولا اخاف الشر یوم الملتقی
یعنی: میں اس ندا دینے والی موت سے نہیں ڈرتا
جب تک کہ کارآزمودہ مَردوں کے درمیان گر پڑوں اور خاک میں نہاں ہوجاؤں
میری جان ڈھال ہے مصطفی (ص) کی جان گرامی (حسین (ع)) کی
میں ہوں، عباس! مشک لے کر آرہا ہوں
اور میں جنگ کے دن کسی شر سے خائف نہیں ہوا کرتا
لشکر یزید کے چار ہزار اشقیاء مقابلے پر آئے۔ یہ اشقیاء درحقیقت عباس کو پانی خیموں تک پہنچانے سے روکنا چاہتے تھے۔ وہ حملہ کررہے تھے او تیر پھینک رہے تھے تا کہ عباس (ع) یعنی تک نہ پہنچ سکیں۔ عباس (ع) نے طویل جنگ لڑی اور بدن پر پیاس کے ساتھ ساتھ تھکاوٹ کا بوجھ بھی تھا کہ فرات کے آب رواں میں وارد ہوئے۔ پانی گھوڑے کے پیروں کے نیچے جاری تھا عباس نے پانی اپنی ہتھیلیوں میں بھرکر اٹھایا اور ہونٹوں کے قریب لے گئے مگر امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کی پیاس یاد آئی چنانچہ پانی پئے بغیر مشک پانی سے بھرکر اپنے دائیں کندھے پر لادا اور گھوڑے کا رخ خیموں کی جانب کرکے روانہ ہوئے۔
یزیدی دشمن بچوں تک ایک قطرہ پانے پہنچنے کے بھی خلاف اور اس سے خائف تھے چنانچہ انھوں نے عباس علیہ السلام کا راستہ بند کردیا اور ہر جانب سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ عباس (ع) نے ان کے خلاف شدید لڑائی لڑی یہاں تک کہ ایک شقی یزیدی نے اپنی تلوار سے ان ان کا دایاں ہاتھ قطع کردیا اور عباس قہرمان نے فرمایا:
واللہ ان قطعتموا يميني
اني احامي ابدا عن ديني
و عن امام صادق اليقين
نجل النبي الطاہر الامين
